Skip to content

>Definition of Patriotism

December 16, 2008

>

حب الوطنی کی تعریف

میں اپنے آپ کو ایک محب وطن پاکستانی سمجھتا ہوں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے آج تک دانستہ طور پر کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے پاکستان کی ساکھ یا پاکستان کو نقصان پہنچے۔ میرے نزدیک محب وطن ہر وہ شخص ہے جو پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا چاہے اور اس میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسی لیے میں اپنے حصے کا انکم ٹیکس پورا اور وقت پر دیتا ہوں، بجلی اور گیس چوری نہیں کرتا، کچی رسید پر چیزیں نہیں خریدتا۔ مختصراً میں ہر وہ کام کرتا ہوں جو ایک محب وطن پاکستانی کا فرض بنتا ہے۔


لیکن اب معلوم ہوا کہ پاکستانی حکام نے کچھ عرصہ قبل محب وطن کی تعریف جو بتائی ہے اس کے مطابق تو میں اس زمرے میں آتا ہی نہیں ہوں۔ جی اب حکام جو کہ پہلے قومی سلامتی کی تعریف وضع کرتے تھے وہ اب محب وطن کی تعریف بھی وضع کرتے ہیں۔

ممبئی حملوں کے بعد صحافیوں کو حال ہی میں دی گئی سکیورٹی بریفنگ میں سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کو ایک محب وطن پاکستانی قرار دیا۔

اس کا اندازہ میں ہی لگا سکتا ہوں کہ میرے دل پر کیا گزری جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس وضع کردہ تعریف کے مطابق تو میں دور دور تک محب وطن کے زمرے میں نہیں آتا۔

میں نے اپنی زندگی میں ایک ہی مرتبہ بندوق کو ہاتھ لگایا تھا۔ یہ طالب علمی کا زمانہ تھا جب ایف ایس سی کے دوران بیس نمبر لینے کی خاطر این سی سی کی تھی۔ جب بندوق سے مراسم اتنے محدود رہے تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں نے کبھی فوجیوں یا سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کرنے کا سوچا ہوگا۔ایسا سوچوں بھی تو کیوں؟ اپنا گزارا ہی مشکل سے ہوتا ہے ان کو کہاں سے کھلاؤں گا۔

میں نے کبھی اپنی سیر و تفریح کی ویڈیو نہیں بنائی تو سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کی تباہی اور گلے کاٹتے ہوئے کیا اور کیوں ویڈیو بناؤں گا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کبھی کوئی ایسی حرکت نہیں کی کہ سکیورٹی فورسز تو دور کی بات کبھی پولیس کو آپریشن کرنا یا میرے گھر کا دروازہ بھی کھٹکانا پڑے۔ اس کے علاوہ کسی عدالت سے قتل کے الزام یا کسی اور مسئلے پر میرے نام کے وارنٹ بھی جاری نہیں ہوئے۔

چلیں یہ بھی برداشت کر لیا کہ میں حب الوطنی کی سرکاری تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ لیکن یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ یہ تعریف تو ایک سرکاری ادارے کے مطابق ہے اور باقی سرکاری ادارے اس ضمن میں کون کون سی صلاحیتیں رکھنے والوں کو شمار کریں گے۔

میرے ذہن میں جو چند خوبیاں آ رہی ہیں ان میں چند یہ ہیں:
فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے بقول وہ جاگیردار، وڈیرے، سیاستدان یا کاروباری شخصیات جو ٹیکس پورا نہیں دیتے
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق وہ جاگیردار، وڈیرے، سیاستدان یا کاروباری شخصیات جو بینک سے قرضہ لے کر معاف کراتے ہوں
حکومت پاکستان کے مطابق وہ صدور جو سرکاری خرچ پر دو سو دوستوں کو عمرے پر لے کر جاتے ہوں
عدلیہ کے مطابق وہ جسٹس صاحبان جو اپنے بیٹے کو نوکری دلوائیں یا اپنی بیٹی کو اضافی اکیس نمبر دے کر میڈیکل کالج میں داخلہ دلائیں

اگر کسی اور کے ذہن میں مزید خوبیاں آ رہی ہیں تو پلیز مجھے بھی بتائیں تاکہ میں ایک اچھا محب وطن بن سکوں۔

Advertisements
No comments yet

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: